اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورۂ بھارت میں تجارت، سفارتی تعلقات اور علاقائی سلامتی اہم موضوعات ہوں گے، تاہم واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روبیو کی بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی سے ان کی ملاقات طے نہیں ہے۔
روبیو اس سے قبل ازبکستان کا دورہ کرچکے ہیں، جہاں انہوں نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مضبوط شراکت داری پر زور دیا۔ بھارت میں ان کا پہلا پڑاؤ ممبئی ہوگا، جبکہ وہ گجرات کے شہر جام نگر بھی جائیں گے۔ وہاں ارب پتی مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کی اہم ریفائنری واقع ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری قرار دیا جاتا ہے۔
دورے کے دوران روبیو سے توقع ہے کہ وہ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کی یاد میں پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ روبیو رواں سال مئی میں بھی بھارت آئے تھے، جب انہوں نے نئی دہلی اور کولکتہ کا دورہ کیا اور مودی سے ملاقات کی تھی۔
امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر کئی ماہ سے مذاکرات جاری ہیں۔ روبیو نے پیر کو سمرقند میں کہا کہ دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے رواں ماہ اشارہ دیا تھا کہ مذاکرات اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں مزید رعایت دینا مشکل ہوسکتا ہے۔
دونوں ملکوں نے فروری میں ایک عبوری تجارتی معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات کم کرنا تھا۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع محصولات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے غیر یقینی پیدا ہوگئی۔
تجارتی اختلافات کے علاوہ بھارت کی روسی تیل کی درآمدات اور واشنگٹن کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے روابط بھی دوطرفہ تعلقات میں اہم عوامل ہیں۔ روبیو نے روسی تیل پر امریکی پابندیوں میں عارضی چھوٹ کے معاملے پر کہا کہ واشنگٹن کو توانائی کی ضروریات اور دوطرفہ تعلقات سمیت متعدد عوامل دیکھنا پڑتے ہیں۔ بھارت روسی تیل کا بڑا خریدار ہے، اس لیے یہ معاملہ مذاکرات میں اہم رہ سکتا ہے۔
دورے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک تجارتی اختلافات کو کس حد تک کم کرتے اور وسیع تر تعلقات میں تعاون کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔
