اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور معیشت کے بارے میں تشویش نے عوامی حمایت کو متاثر کیا ہے، جبکہ 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 12 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔
چار روز تک جاری رہنے والے آن لائن سروے کے نتائج پیر کو سامنے آئے۔ اس کے مطابق 31 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری دی، جو دو ہفتے پہلے کے مقابلے میں ایک پوائنٹ کم ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز سے پوچھا گیا کہ اگر آج کانگریس کے انتخابات ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔ اس سوال پر 47 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔
ڈیموکریٹس کی 12 پوائنٹس کی برتری موجودہ انتخابی دور میں دونوں جماعتوں کے درمیان سب سے بڑا فرق ہے۔ دو ہفتے قبل ہونے والے اسی نوعیت کے سروے میں ڈیموکریٹس کو 44 فیصد اور ریپبلکنز کو 37 فیصد حمایت حاصل تھی۔
ریپبلکنز کے لیے ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک کا کنٹرول کھونا ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ان کی صدارتی مدت کے آخری دو سال کے دوران قانون سازی اور حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد متاثر ہونے کا امکان ہوگا۔
سروے میں خواتین ووٹرز کے اندر ڈیموکریٹس کی حمایت زیادہ نمایاں رہی۔ خواتین میں 50 فیصد نے ڈیموکریٹس اور 32 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔ مرد ووٹرز میں بھی ڈیموکریٹس آگے رہے، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان فرق نسبتاً کم تھا۔
ٹرمپ کی مقبولیت کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق جنگ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات کے بارے میں تشویش بڑھائی۔ مجموعی طور پر 68 فیصد امریکیوں نے معیشت سے متعلق ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جن میں خود کو ریپبلکن قرار دینے والے 37 فیصد افراد بھی شامل تھے۔
معیشت بہتر طور پر سنبھالنے کے سوال پر 40 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 33 فیصد نے ریپبلکنز کو بہتر قرار دیا۔ سروے میں 1,679 بالغ امریکیوں کی رائے شامل تھی، جن میں 1,279 رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔ نتائج میں غلطی کی ممکنہ حد بالغ افراد کے لیے دو اور رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے تین پوائنٹس بتائی گئی۔ تاہم قومی سروے انتخابی حلقوں کے نتائج کی مکمل پیش گوئی نہیں کرسکتے۔
