Political battle erupts over the deletion of voters' names; several individuals, including Abhijit Dipke—founder of the 'Cockroach Party'—arrested in Delhi.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں، طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ زیرِ حراست افراد میں نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعے کو سینکڑوں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیوں سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جانبداری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹرز کے نام غلطی سے حذف ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔

پولیس نے دیپکے کو مرکزی دہلی میں ایک گھر سے نکلتے وقت حراست میں لیا، جبکہ نیہا بورا کو احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کے دوران احتیاطی حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق دیپکے کو مظاہرے میں شرکت سے پہلے خبردار کیا گیا تھا۔

حکام نے تجارتی علاقے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک کو دو روز کے لیے بند کر دیا۔ علاقے میں سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جن میں کئی نے ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کا حفاظتی سامان پہن رکھا تھا۔ اس کے باوجود تقریباً 500 مظاہرین مختلف مقامات پر جمع ہوئے، بھارتی پرچم لہرائے اور نعرے لگائے۔ پولیس نے بعض افراد کو حراست میں بھی لیا۔

احتجاج کا پس منظر ووٹر فہرستوں سے متعلق وہ رپورٹس ہیں جن کے مطابق گزشتہ سال سے اب تک 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے جا چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ حذف کیے گئے ناموں میں 2 کروڑ 80 لاکھ فوت شدہ افراد، 6 کروڑ 30 لاکھ دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد اور 3 کروڑ ایسے ووٹرز شامل تھے جن کا سراغ نہیں مل سکا۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ان تبدیلیوں سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو غیر متناسب نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے مظاہرین کے الزامات مسترد کیے ہیں۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو انتشار کی سیاست میں مہرے بنایا جا رہا ہے۔

دہلی کے علاوہ ممبئی، بنگلورو اور پٹنہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین پورے مہینے سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے بھارت میں انتخابی فہرستوں کی شفافیت پر سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔