First mission to assess Pakistan's nuclear security at the global level completed; key IAEA recommendations.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کے جوہری سکیورٹی نظام کا پہلا بین الاقوامی جائزہ مکمل ہوگیا ہے، جس کے دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین نے ملک کے قانونی اور ضابطہ جاتی نظام، جوہری تنصیبات کے تحفظ اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس مشن نے 12 روزہ جائزے کے دوران پاکستان کے جوہری تحفظ کے نظام کو مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید بہتری کے لیے سفارشات اور قابلِ تقلید طریقہ کار کی نشاندہی کی۔

سات رکنی مشن کی قیادت مراکش کی جوہری توانائی کی سابقہ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ خمار مرابط نے کی۔ ٹیم میں چین، رومانیہ، روس اور سلوواکیہ کے ماہرین کے علاوہ آئی اے ای اے کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔

مشن نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ماہرین نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے کینوپ ڈی کمیشننگ منصوبے کا دورہ بھی کیا، جہاں پلانٹ کی بندش، استعمال شدہ جوہری ایندھن کے ذخیرے اور تنصیبات کو مرحلہ وار ختم کرنے سے متعلق سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پاکستان کا پہلا جوہری بجلی گھر تھا، جس میں کینیڈین ساختہ کینڈو ری ایکٹر 1971 سے 2021 تک کام کرتا رہا۔

آئی اے ای اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کارین ہرویؤ اور پی این آر اے کے چیئرمین ضیا حسین شاہ نے جوہری تحفظ کے انتظامات کا جائزہ لینے اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔

پاکستان جوہری مواد کے طبعی تحفظ کے کنونشن کا فریق ہے اور اس نے 2016 میں کنونشن کی 2005 کی ترمیم کی توثیق کی تھی، جس سے تحفظ کا دائرہ پرامن جوہری تنصیبات اور مواد تک وسیع ہوا۔

دوسری جانب پی این آر اے اور آئی اے ای اے کی پانچ روزہ ورکشاپ میں جوہری تحفظ سے متعلق استعمال کے لیے تجارتی معیار کی اشیا کی جانچ اور تصدیق پر توجہ دی گئی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی میں ہونے والی ورکشاپ میں ریگولیٹری حکام، جوہری آپریٹرز اور سپلائی چین سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔

 پی این آر اے کے ایگزیکٹو ممبر شاہد رشید کے مطابق ٹیکنالوجی میں تبدیلی، پرانے آلات اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث خصوصی جوہری معیار کے پرزوں کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے تجارتی اشیا کی موزونیت کی تصدیق جوہری تحفظ کے لیے اہم ہے۔