اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس اب بھی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کا وقت موجود ہے، تاہم بامعنی بات چیت کے لیے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے پارٹی نمائندوں کی ملاقات ضروری ہے۔
سوات کے شہر مینگورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر حکومت کل عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دیتی ہے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اب بھی تیار ہے۔
انہوں نے مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے رویے پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے بات چیت کے دوران لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے مذاکراتی ڈیڈلاک کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے جوڑنے کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری مذاکراتی تعطل پیدا کرنے میں کوئی کردار نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ تاہم انہوں نے وفاقی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لیے اعلان کردہ 10 ارب روپے کی مالی امداد پر بھی سوال اٹھایا۔ گوہر کے مطابق یہ رقم انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن صوبے کو اب تک اس رقم میں سے ایک روپیہ بھی موصول نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن بامعنی پیش رفت کے لیے حکومت کو لچک دکھانا اور پارٹی کے تحفظات دور کرنا ہوں گے۔
دریں اثنا، ملاکنڈ ڈویژن کے تمام 10 اضلاع سے تعلق رکھنے والے تاجر اور مختلف تنظیموں کے نمائندے منگل، 7 اکتوبر کو سوات موٹروے کو ٹریفک کے لیے بند کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے مطابق چکدرہ میں شپنگ کنٹینرز رکھ کر موٹروے بند کی جائے گی۔ مختلف اضلاع سے احتجاجی ریلیاں صبح 10 بجے چکدرہ انٹرچینج پہنچیں گی، جہاں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔
تاجر برادری کا مؤقف ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو تاریخی طور پر ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل رہا ہے اور وہ نئے ٹیکس اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔ تنظیموں نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں مزید احتجاج کی بھی وارننگ دی ہے۔
