اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ سے تاریخ میں کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ تیل گزرا ہے۔
ہسپانک ہیریٹیج منتھ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے اور جنگ بہت جلد کسی نہ کسی طریقے سے جیت لی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی، تجارت اور معیشت کیلئے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عالمی یومِ بحریات کے موقع پر پزشکیان نے کہا کہ خلیج فارس اور اس کے آبی راستوں میں پائیدار سکیورٹی علاقائی ممالک کے تعاون اور ذمہ داری سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سمندری سلامتی، بندرگاہیں اور تجارتی راستے اقتصادی سرگرمیوں کیلئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ اقتصادی ترقی قومی صلاحیتوں کو مضبوط بناتی ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کے ذریعے امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے سات روزہ اعتماد سازی کا منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کی تجویز شامل ہے۔
رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں بنیادی اختلاف منصوبے کے نکات پر نہیں بلکہ اقدامات کی ترتیب پر ہے۔ قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچانے کیلئے ثالثی جاری رکھے ہوئے ہے۔
چین نے بھی امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی و سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کی طرف واپس آئیں۔
دریں اثنا یمن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی اہداف کے خلاف 414 کارروائیاں کی گئیں۔ فوجی ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق کارروائیوں میں حوثی کمک اور عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
