اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی پرواز میں پیش آنے والے ڈرامائی واقعے کے بارے میں بتایا گیا، جہاں شریک پائلٹ نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارہ تیزی سے نیچے جانے لگا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ واقعے کی بعض تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، یہ وہ کہانی ہے جو میں نے سنی، مجھے نہیں معلوم یہ سچ ہے یا نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ شریک پائلٹ ممکنہ طور پر دہشت گرد تھا یا ذہنی طور پر غیرمتوازن شخص، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
رائٹرز کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی اور اس میں 174 افراد سوار تھے۔ دورانِ پرواز کاک پٹ میں جھگڑے کے بعد طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ کی بلندی تیزی سے کھو بیٹھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق شریک پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا۔ زخمی ہونے کے باوجود بھارتی شہری کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافر اور عملے کے ارکان اندر داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کیا۔
رائٹرز کے مطابق پرواز میں موجود اضافی فلائی دبئی پائلٹس نے بعد میں طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا۔
ٹرمپ نے ایک اسرائیلی مسافر کا بھی ذکر کیا جسے انہوں نے پلمبر قرار دیا اور کہا کہ اس شخص نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔ تاہم ٹرمپ نے اس تفصیل کی بھی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وضاحت کی۔
مسافروں کے مطابق کاک پٹ میں صورتحال انتہائی افراتفری کا شکار تھی اور کئی افراد نے حملہ آور کو قابو کرنے میں کردار ادا کیا۔
واقعے کے بعد سعودی حکام نے شریک پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔ اسرائیلی حکام نے اسے عمانی شہری بتایا ہے جبکہ اس کے حملے کی وجہ تاحال زیر تفتیش ہے۔
فلائی دبئی نے واقعے کو کاک پٹ میں جھڑپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجوہات ابھی معلوم نہیں اور قبل از وقت قیاس آرائی سے گریز کیا جائے۔
واقعے کے بعد اسرائیل نے ملک آنے والی پروازوں کے تمام پائلٹس کی شناخت اور سکیورٹی جانچ مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
