From the White Paper to Governor's Rule Khyber Pakhtunkhwa government warns the Federation.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی وزرا کی جانب سے جاری وائٹ پیپر میں صوبائی حکومت پر عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے عوام مسلسل جانیں قربان کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وفاقی حکومت ایک مہم جوئی میں مصروف ہے جبکہ اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو صوبے کے عوام گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔

شفیع جان نے کہا کہ وفاقی وزرا مسلسل صوبائی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور مختلف وزرا کو خیبر پختونخوا کے خلاف پریس کانفرنسیں کرنے کی ذمہ داریاں دے کر ایک ہی اسکرپٹ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی وائٹ پیپر کو مسترد کرتی ہے اور اس میں بیان کردہ باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔

شفیع جان نے سوال کیا کہ اگر اصل مسئلہ دہشت گردی ہے تو بلوچستان میں، جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے، گورنر راج یا ایمرجنسی کیوں نہیں لگائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان تحریک انصاف کے دور میں شروع نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق 2013 میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد صوبے میں امن قائم ہوا تھا اور پارٹی نے ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا بھی دیا تھا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی وفاق بناتا ہے، صوبائی حکومت نہیں۔ ان کے مطابق اگر دہشت گردی بڑھ رہی ہے تو وفاق کی پالیسی ناکام ہوئی ہے۔

انہوں نے اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خیبر پختونخوا کے حالات کا علم نہیں کیونکہ انہوں نے صوبے کا دورہ تک نہیں کیا۔ شفیع جان نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ متاثرہ لوگوں سے مشاورت کرکے پالیسی بنائی جائے۔

27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ لاٹھیوں کے ساتھ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔

ان کے مطابق ملک اور فوج ان کی اپنی ہے اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اداروں کو پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی اداروں کو اسلحے کی خریداری کے لیے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں، تاہم صوبے کو مطلوبہ سامان فراہم نہیں کیا جارہا۔

شفیع جان نے مریم نواز کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ پنجاب کو بھارت کے بجائے پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں کہ وہ کس آگ سے کھیل رہے ہیں اور 4 اکتوبر کو عوام کے سڑکوں پر آنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گرد کہنا ان کے لیے توہین ہے کیونکہ صوبہ دہشت گردی سے متاثر ہوا، لوگوں نے جانیں دیں اور اس کے باوجود انہیں طعنے سننے پڑ رہے ہیں۔