اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے کچھ روز قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ممکنہ بڑے حملے سے خبردار کیا تھا، نیویارک ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے۔
اخبار کے مطابق محمد بن زاید نے ستمبر 2023 کے اواخر میں نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ایسی معلومات فراہم کیں جن کے مطابق حماس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس مبینہ وارننگ میں یہ واضح نہیں تھا کہ حماس راکٹ حملے کرے گی یا غزہ سے اسرائیل میں زمینی کارروائی شروع کرے گی۔
نیویارک ٹائمز نے دو ایسے افراد کا حوالہ دیا جو مبینہ گفتگو سے واقف تھے، جبکہ پانچ سابق سینئر اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے بھی اخبار کو بتایا کہ یہ وارننگ یکم اکتوبر کو ہونے والے اہم سیکیورٹی اجلاس میں زیر بحث نہیں آئی۔
اس اجلاس میں نیتن یاہو نے غزہ میں کشیدگی کم رکھنے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض سیکیورٹی حکام حماس کے ان سینئر رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی تجویز دے رہے تھے جو مغربی کنارے میں حملوں کی منصوبہ بندی سے منسلک تھے۔
نیتن یاہو نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے ممکنہ سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہ دعویٰ اس ماہ اسرائیلی اخبار ہاآرتز کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ محمد بن زاید کو ایک فلسطینی سابق عہدیدار کے ذریعے حماس کی بڑی کارروائی سے متعلق معلومات ملی تھیں۔
تاہم نیتن یاہو نے ایسی وارننگ موصول ہونے کی تردید کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی براہ راست اس مبینہ گفتگو پر تبصرہ نہیں کیا۔
7 اکتوبر کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 250 کے قریب افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد اسرائیل کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی نظام کی ناکامی اور ذمہ داری کے تعین پر شدید بحث شروع ہوئی۔
