Three-day celebrations in Kartarpur conclude; Sikh pilgrims raise the issue of the closed corridor.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق بابا گورونانک کی 487ویں برسی کے موقع پر پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک سے کرتارپور آنے والے سکھ یاتریوں نے بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری بند کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نارووال میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں بابا گورونانک کی برسی کے سلسلے میں تین روزہ مذہبی تقریبات منگل کو اختتام پذیر ہوگئیں۔ اس موقع پر یاتریوں نے کہا کہ راہداری کی بندش سکھ برادری کو مذہبی آزادی سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

تقریبات میں بڑی تعداد میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔ یاتریوں نے گوردوارہ کمپلیکس میں مذہبی رسومات ادا کیں اور سمادھی پر چادر چڑھائی۔

سکھ یاتریوں نے نگر کیرتن میں شرکت کے علاوہ پاکستان بھارت زیرو لائن پر بھی مذہبی رسومات ادا کیں۔ انہوں نے مقدس کنویں کا دورہ کیا اور وہاں سے پانی پیا۔

یاتریوں نے گوردوارے کی لائبریری، میوزیم اور کھیت صاحب سمیت دیگر مقدس مقامات کا بھی دورہ کیا۔

کرتارپور پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا، پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سردار اندر جیت سنگھ اور مختلف سرکاری محکموں کے نمائندوں نے یاتریوں کا استقبال کیا۔

تین روزہ تقریبات کے دوران بابا گورونانک لنگر ہال میں سکھ یاتریوں کے لیے کھانے، پھل، مشروبات اور چائے کا انتظام کیا گیا۔

گوردوارے کے ہیڈ گرنتھی سردار گوبند سنگھ نے تیسرے روز اختتامی مذہبی رسومات ادا کیں۔ اختتامی تقریب میں پاکستان کی سلامتی، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

کرتارپور پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے سکھ یاتریوں کے رہنماؤں اور مہمانوں کو سروپا صاحب اور یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔

سکیورٹی کے پیش نظر تین روزہ تقریبات کے دوران گوردوارہ دربار صاحب میں غیر مجاز افراد کا داخلہ ممنوع تھا جبکہ تقریبات کی نگرانی کے لیے کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے۔

تین روزہ مذہبی تقریبات مکمل ہونے کے بعد سکھ یاتری اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوگئے، تاہم انہوں نے بھارت سے کرتارپور راہداری فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ برقرار رکھا۔