اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو سخت دھمکی دی ہے کہ اگر جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اسلامی جمہوریہ کے خلاف انتہائی تباہ کن کارروائی کرسکتا ہے، تاہم اسی دوران امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات بھی جاری رہے۔
نیویارک میں 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے سامنے بڑا فیصلہ ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی جائے یا امن معاہدے کی طرف بڑھا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جس کے بعد تہران دوبارہ اپنی طاقت بحال کرسکے گا یا امریکا اسلامی جمہوریہ کو نیست و نابود کردے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔
تاہم امریکی صدر نے مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھا اور کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسا معاہدہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوسکتا ہے۔
اسی روز امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر تقریباً تین گھنٹے ملاقات ہوئی۔ ٹرمپ نے بعد میں اس رابطے کو بہت نتیجہ خیز قرار دیا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق قطر نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے تہران کی شرائط واشنگٹن تک پہنچائیں۔
وٹکوف نے بھی تصدیق کی کہ ثالثوں نے دن بھر دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچائے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا ایک دور مکمل ہوا جسے وہ تعمیری اور امید افزا سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے معاملے پر ٹرمپ نے امریکا کی برتری برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ اے آئی کو سپر انٹیلی جنس کہا جانا چاہیے۔
ادھر ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں کے ساتھ گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
