اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 لائٹننگ ٹو لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے، مجوزہ معاہدے کی مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے تاہم ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ پیکیج میں 48 جنگی طیاروں کے ساتھ 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجن، مواصلاتی آلات، اسپیئر پارٹس اور دیگر معاون سامان بھی شامل ہوگا۔
ایف 35 اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جسے دشمن کے ریڈار سے بچنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسرائیل گزشتہ ایک دہائی سے یہ طیارے استعمال کر رہا ہے اور اس وقت مشرق وسطیٰ میں ایف 35 رکھنے والا واحد ملک ہے۔
سعودی عرب طویل عرصے سے ایف 35 طیاروں کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ریاض نے 2025 کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست بھی ان طیاروں کے حصول کی درخواست کی تھی۔
سعودی سفارتخانے نے مجوزہ فروخت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایف 35 ڈیل سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعاون کی مضبوطی کی عکاس ہے۔
امریکی حکومت مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے اسرائیل کی ’کوالٹیٹیو ملٹری ایج‘ برقرار رکھنے کو مدنظر رکھتی ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکا اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ اسرائیل کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ جدید امریکی ہتھیاروں تک رسائی حاصل رہے۔
سعودی فضائیہ اس وقت امریکی ایف-15 کے علاوہ یورپی ٹورنیڈو اور ٹائفون جنگی طیارے بھی استعمال کرتی ہے۔ سعودی عرب اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کے ساتھ علاقائی خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
ایف 35 ڈیل سعودی عرب اور امریکا کے وسیع تر سفارتی تعلقات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی سعودی عرب کو ایف 35 فراہم کرنے پر غور کیا گیا تھا، تاہم اس وقت یہ کوشش سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے وسیع تر معاہدے کے ساتھ منسلک تھی اور پیش رفت آگے نہ بڑھ سکی۔
صدر ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کو ترجیح دی ہے۔ 2025 میں امریکا نے سعودی عرب کے لیے تقریباً 142 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیج پر بھی اتفاق کیا تھا، جسے وائٹ ہاؤس نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی تعاون قرار دیا تھا۔
