اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ڈرون ساز کمپنی پاوراس نے پاکستان آرمی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس میں بغیر پائلٹ فضائی نظام سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی شامل ہے۔
رائٹرز کے مطابق معاہدے کی مالیت اور ابتدائی آرڈر کی تفصیلات سکیورٹی اور رازداری کے باعث ظاہر نہیں کی گئیں۔ پاوراس فوجی اور صنعتی استعمال کے لیے فضائی اور بحری ڈرونز تیار کرتی ہے۔
پاکستانی فوج کے مطابق پاوراس کے وفد نے کمپنی کے سربراہ بریٹ ویلیکویچ کی قیادت میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل المدتی صلاحیت بڑھانے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاہم پاک فوج کے سرکاری بیان میں ایم او یو کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ کمپنی نے معاہدے اور ابتدائی آرڈر کی تصدیق کی ہے۔
پاوراس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نجی دفاعی شعبہ ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے، تاہم کمپنی امریکی اور پاکستانی ٹیکنالوجی کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے امکانات دیکھ رہی ہے۔ کمپنی مستقبل میں پاکستان میں ٹیکنالوجی کی تیاری اور مشترکہ پیداوار کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاوراس رواں برس اکتوبر کے آغاز میں امریکی اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی اورییوس گرینوے ہولڈنگز کے ساتھ انضمام کرنے والی ہے۔
اورییوس گرینوے کو امیریکن وینچرز نامی سرمایہ کاری فنڈ کی حمایت حاصل ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ سے منسلک ہے۔ مجوزہ انضمام کے بعد امیریکن وینچرز کی مشترکہ کمپنی میں 9.9 فیصد بینیفیشل اونرشپ متوقع ہے۔
تاہم کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا ہے کہ ٹرمپ خاندان کے ارکان کاروباری معاملات، آپریشنز یا معاہدوں میں شامل نہیں۔ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے بھی انتظامی اور خریداری کے معاملات میں کسی کردار کی تردید کی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی معاون انا کیلی نے بھی مفادات کے ٹکراؤ کی تردید کی ہے۔
