اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے 9/11 حملوں کے بعد شہر میں پھیلنے والی زہریلی ہوا سے متعلق دسیوں ہزار ایسی دستاویزات جاری کردی ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ عوام کو وہ تمام معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں جو سٹی انتظامیہ کے پاس موجود تھیں۔
یہ دستاویزات 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی 25ویں برسی سے کچھ روز قبل منظرعام پر لائی گئی ہیں۔ ان حملوں میں امریکا میں مجموعی طور پر 2,977 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز کے انہدام سے جاں بحق ہونے والوں کی تھی۔
وفاقی طبی نگرانی کے ایک پروگرام کے مطابق، حملوں کے بعد متاثرہ علاقے میں زہریلے مادوں کے رابطے میں آنے سے اب تک 9,400 سے زائد افراد مختلف بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ہزاروں دیگر افراد بھی صحت کے مسائل کا شکار ہوئے، جن میں کینسر سمیت مختلف سنگین بیماریاں شامل ہیں۔ بی بی سی کے مطابق متعدد افراد نے عمارتوں کے گرنے کے بعد فضا میں پھیلنے والے خطرناک آلودہ ذرات سانس کے ذریعے اندر جانے کے نتیجے میں بیماریاں پیدا کیں۔
ممدانی نے آن لائن جاری کی گئی 1 لاکھ 70 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ریکارڈ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ گراؤنڈ زیرو کے اردگرد زہریلی ہوا کے بارے میں شہر کو کیا معلوم تھا، اسے کب معلوم ہوا اور شہری انتظامیہ نے اپنی قانونی ذمہ داری محدود رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔
یہ دستاویزات ہیلتھ واچ 9/11 نامی متاثرین کی وکالت کرنے والی تنظیم کے ساتھ معاہدے کے تحت جاری کی گئی ہیں، جس نے ان ریکارڈز کے حصول کے لیے نیویارک سٹی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق شہر کے حکام نے گزشتہ سال ان دستاویزات کے 68 ڈبے دریافت کیے تھے، حالانکہ اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ یہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں تھے۔
ہیلتھ واچ 9/11 کے ڈائریکٹر بینجمن شیواٹ نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 25 برس کے دوران چار مختلف میئر انتظامیہ نے عوام، امریکی کانگریس اور نیویارک سٹی کونسل سے یہ معلومات چھپائے رکھیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کے بعد لوئر مین ہٹن اور مغربی بروکلین میں خطرناک کیمیکلز کے بارے میں شہر کو حقیقتاً کیا معلوم تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب سرکاری حکام عوام کو مسلسل یہ پیغام دیتے رہے کہ وہاں کی ہوا محفوظ اور قابل قبول ہے۔
