اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لاطینی امریکا کے تین ممالک کے دورے کا آغاز کردیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکا کے حامی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا اور واشنگٹن کے اثرورسوخ کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
روبیو منگل کو کولمبیا پہنچے، جہاں وہ نئے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا سے ملاقات کریں گے۔ 48 سالہ ارب پتی سیاست دان نے جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اپنی انتخابی مہم میں انسدادِ اسٹیبلشمنٹ اور ٹرمپ نواز مؤقف اختیار کیا تھا۔
میامی سے روانگی کے موقع پر روبیو نے کہا کہ مغربی نصف کرہ میں امریکا اور امریکی مفادات کے ساتھ ہم آہنگی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔
روبیو کولمبیا کے بعد ایکواڈور اور پیرو بھی جائیں گے۔ کولمبیا میں ان کی پہلی ملاقات کیریبین ساحلی شہر بیرنکیلا میں ہوگی، جو عالمی سطح پر پاپ اسٹار شکیرا کے آبائی شہر کے طور پر بھی مشہور ہے۔
ڈی لا ایسپریلا نے جون کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بائیں بازو کے امیدوار کو شکست دی تھی۔ انہوں نے منشیات اسمگل کرنے والے مسلح گروہوں کے ساتھ امن مذاکرات ختم کرنے اور ملک میں جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔
ان کے اقتدار میں آنے کے بعد کولمبیا نے ایسے مسلح گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کردی ہیں اور امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی آپریشنز کی بھی منظوری دی ہے۔
کولمبیا ٹرمپ کی قیادت میں قائم شیلڈ آف دی امیریکاز اتحاد میں بھی شامل ہوچکا ہے، جس کا مقصد خطے میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
روبیو نے کہا کہ ان کے دورے میں سرحد پار جرائم پیشہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی اور اقتصادی تعاون اہم موضوعات ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا مضبوط تجارتی معاہدے طے کرنے کی امید رکھتا ہے۔
کولمبیا کے وزیر خارجہ عمر بولا نے کہا کہ روبیو کا دورہ امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد کی ازسرنو تعمیر میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق سابق بائیں بازو کے صدر گستاوو پیٹرو کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کمزوری آئی تھی۔
