اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج نے پنجاب کے تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں 2 لاکھ 87 ہزار 676 امیدواروں میں سے نصف سے بھی کم طلبہ کامیاب ہوسکے۔
بورڈ کے جاری کردہ نتائج کے مطابق امتحان میں شریک ہونے والے امیدواروں میں سے صرف 1 لاکھ 30 ہزار 543 طلبہ کامیاب قرار پائے، جس کے بعد کامیابی کی مجموعی شرح 46.51 فیصد رہی۔
اس حساب سے 1 لاکھ 57 ہزار سے زائد طلبہ امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے، جبکہ تقریباً 54 فیصد امیدوار کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
نتائج سامنے آنے کے بعد والدین، اساتذہ اور ماہرین تعلیم میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی جماعت کے نصف سے زیادہ طلبہ امتحان پاس نہ کرسکیں تو معاملہ صرف طلبہ کی انفرادی کمزوری تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے تعلیمی نظام کا جائزہ ضروری ہوجاتا ہے۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق حکومت کی جانب سے ہر سال تعلیمی اصلاحات، داخلوں میں اضافے، ڈیجیٹل اقدامات اور اساتذہ کی تربیت کے منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے، تاہم حالیہ نتائج نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ ان اقدامات کے اثرات کلاس روم میں طلبہ کی حقیقی تعلیمی کارکردگی میں کس حد تک منتقل ہورہے ہیں۔
پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کی ناکامی تعلیمی پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد کے جامع جائزے کی متقاضی ہے۔
اساتذہ کے مطابق کمزور بنیادی تصورات، گنجائش سے زیادہ طلبہ والی کلاسیں، تدریسی معیار میں فرق، بعض اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور تعلیمی نگرانی کا کمزور نظام ناکامی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں پیدا ہونے والے لیرننگ گیپس وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں اور سیکنڈری سطح پر پہنچنے کے بعد امتحانات کے نتائج میں واضح ہوجاتے ہیں۔
انگریزی، ریاضی اور سائنس کو طلبہ کے لیے مشکل ترین مضامین میں شمار کرتے ہوئے ماہرین نے بنیادی تعلیمی مہارتوں کو ابتدائی سطح ہی سے مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق نویں جماعت کے نتائج محض کامیاب اور ناکام طلبہ کے اعدادوشمار نہیں بلکہ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہیں کہ تعلیمی نظام میں بنیادی سیکھنے، تدریس، نگرانی اور امتحانی تیاری کے طریقہ کار پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔
