Chinese hackers launch major attack on American institutions, targeting NASA, Senate and Federal Reserve

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چین سے منسلک ہیکرز کے ایک بڑے سائبر آپریشن کو ناکام بناتے ہوئے ایسے عالمی ہیکنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے جو امریکی اہم بنیادی ڈھانچے اور حساس سرکاری اداروں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق سائبر حملوں میں محکمہ انصاف، ناسا، فیڈرل ریزرو، امریکی سینیٹ سمیت متعدد اہم اداروں کے نیٹ ورکس میں دراندازی کی گئی۔

امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ حکام نے کیو سکین اور کیو ٹی رائوٹر نامی دو ہیکنگ پلیٹ فارمز سے منسلک ڈومینز قبضے میں لے لیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ دونوں پلیٹ فارم مبینہ طور پر چینی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سائبر کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ امریکی حلف نامے میں محکمہ توانائی، محکمہ صحت و انسانی خدمات اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے علاوہ امریکا اور جنوبی کوریا کی چار نامعلوم کمپنیوں کو بھی مبینہ متاثرین میں شامل کیا گیا ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایک عالمی بوٹ نیٹ اور ہیکنگ پلیٹ فارم کو متاثر کیا گیا جو چینی ریاستی سرپرستی میں موجود ہیکرز کی جانب سے امریکی اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

محکمہ انصاف کے مطابق مذکورہ پلیٹ فارمز چین میں قائم نانجنگ ژین جیو وے نیٹ ورک ٹیکنالوجی کمپنی کے زیر انتظام تھے، جبکہ اس کے صارفین میں چین کی سول انٹیلی جنس ایجنسی وزارتِ ریاستی سلامتی اور چینی فوج، پیپلز لبریشن آرمی شامل تھیں۔ رائٹرز کے مطابق کمپنی سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔

امریکی حلف نامے میں مزید کہا گیا کہ اس گروپ کا کمپیوٹر انفراسٹرکچر کم از کم 2018 سے امریکا اور دنیا کے دیگر حصوں میں اہم بنیادی ڈھانچے اور حساس نیٹ ورکس کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

چینی ہیکنگ سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں چین میں مخصوص جارحانہ سائبر خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سائبر سکیورٹی کمپنی سینتینل ون سے وابستہ چین کے تجزیہ کار ڈکوٹا کیری نے کہا کہ مختلف چینی سرکاری اداروں کی جانب سے ہائی پروفائل سائبر حملوں کے لیے نجی کنٹریکٹرز کا استعمال معمول بن چکا ہے۔

چین کے واشنگٹن میں سفارتخانے نے فوری طور پر امریکی الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بیجنگ ماضی میں بھی حکومتوں، فوجی اداروں اور کاروباری کمپنیوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہیکنگ کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔