اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی خبر کے مطابق آزاد کشمیر میں کئی ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی اور احتجاجی صورتحال کے دوران ایک اور پرتشدد واقعہ پیش آیا ہے جہاں بند سڑکیں کھلوانے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے دوران فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار جاں بحق اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس اور حکام نے فائرنگ کا الزام کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک مسلح عناصر پر عائد کیا ہے۔
حکام کے مطابق واقعہ بدھ کو سارساؤا، تھورار اور تھل کے علاقے میں پیش آیا، جہاں طویل عرصے سے جاری سڑکوں کی بندش کے باعث آمدورفت بری طرح متاثر تھی۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مقامی شہریوں کی جانب سے راستے کھولنے کے مطالبات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی۔
سرکاری بیان کے مطابق آپریشن کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح عناصر نے خودکار ہتھیاروں سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز اہلکار شہنواز کے سینے میں گولی لگی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورس کے ایک اور رکن اسحاق اقبال کے سر میں گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہوگئے۔
پولیس نے بھی تصدیق کی کہ سڑکیں کھلوانے کی کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکار فائرنگ کی زد میں آئے۔ تاہم واقعے کے حالات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی فوری طور پر حکام کے ان الزامات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
حکام کے مطابق سڑکوں کی طویل بندش سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے اور مختلف علاقوں میں خوراک سمیت ضروری اشیا کی ممکنہ قلت کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ آمدورفت بحال کرنے اور بند راستے کھولنے کی کارروائی جاری رہے گی۔
