Catastrophic floods in the Himalayas, 1,500 people missing in Nepal and Tibet

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ہمالیہ کے علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات نے نیپال اور چین کے تبت خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں حکام کے مطابق تقریباً 1500 افراد لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ بدھ کو آنے والی تباہی کے بعد پانی، کیچڑ اور چٹانوں کے بڑے ریلے نے دریا کے راستے میں آنے والی بستیوں، سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

نیپال میں 826 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے، جن میں تقریباً 600 غیر ملکی شامل ہیں۔ لاپتا سیاحوں کا تعلق دو درجن سے زائد ممالک سے ہے، جن میں بھارت کے 177، امریکا کے 63، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔ دوسری جانب چین کے تبت میں واقع گییرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

نیپالی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرسکتی ہے۔ پولیس ترجمان ابی نارائن کفلی کے مطابق سرچ آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا ہے اور مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے۔ ریسکیو ٹیمیں دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور متاثرین تک امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔

ایک 68 سالہ متاثرہ شخص کیشَو پرساد بارال نے بتایا کہ مٹی اور پانی کا ایک بہت بڑا ریلا ان کی طرف آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گھر میں داخل ہوگیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کو بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ سیلابی ملبے میں بہہ گئیں۔ ایک اور شخص نے آم کے درخت سے چمٹ کر اپنی جان بچائی جبکہ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ مکان بہہ گیا جہاں وہ کام کررہا تھا۔

نیپالی فوج کے مطابق 5 ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ خیمے، خوراک اور دیگر امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جارہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں زلزلے کو گلیشیئر کے نچلے حصے کے ٹوٹنے اور سیلاب کا ممکنہ سبب قرار دیا گیا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 4.4 شدت کا سمجھا جانے والا زلزلہ دراصل گلیشیئر کی چٹانوں اور برف کے انہدام سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما توانائی تھی۔ متاثرہ علاقے میں ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور کی زیارت کے لیے جانے والے افراد بھی موجود تھے۔ امریکا نے 5 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان اور عملہ بھیج رہا ہے۔