Fazlur Rehman warns opposition, 'Walkout will not stop government's legislation'

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حالیہ قانون سازی کو مؤثر انداز میں چیلنج نہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر تمام جماعتوں کو متحد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جس کے باعث حکومت کو اہم قوانین تیزی سے منظور کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ پشاور میں جے یو آئی خیبر پختونخوا کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حالیہ قانون سازی انتہائی عجلت میں کی گئی، اس پر مناسب بحث نہیں ہوئی اور اپوزیشن ارکان نے بھی اسے تفصیل سے نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا مشترکہ اور مضبوط کردار انتہائی ضروری ہے، صرف واک آؤٹ کرنا حکومت کو قانون سازی سے نہیں روک سکتا۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے اور پارلیمنٹ کے اندر حکومتی اقدامات پر نظر رکھنے کی تجویز دی ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے خاص طور پر ایک قانون کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے فوراً بعد سینیٹ پہنچا اور وہاں صرف 30 منٹ میں منظور ہوگیا، جبکہ اپوزیشن اس دوران واک آؤٹ کرنے پر خوش رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل سے پارلیمانی نگرانی کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

مولانا فضل الرحمان نے دفاعی صلاحیت کے لیے مضبوط فوج کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ فوج کی سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ قانون سازی کے ذریعے ایسے اختیارات بھی ایک فرد کے پاس مرکوز کیے گئے ہیں جو پہلے وفاقی حکومت کے پاس تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اختیارات میں کسی افسر کو برطرف کرنا، مدت ملازمت میں توسیع دینا، استعفیٰ قبول یا مسترد کرنا اور دیگر انتظامی فیصلے شامل ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کے مسلح افواج سے متعلق بعض انتظامی اختیارات بھی اب ایک شخص کے دفتر میں منتقل ہوگئے ہیں اور اس قانون کو متصادم قوانین پر بالادستی حاصل ہوگی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود کرکے طاقت کا ارتکاز کسی ایک ادارے یا فرد کے پاس کرنا جمہوری نظام کے لیے سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت اگر پارلیمنٹ کو مؤثر طور پر نظرانداز کرتے ہوئے قانون سازی جاری رکھتی رہی تو اپوزیشن کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر بھی مولانا فضل الرحمان نے سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہے اور ایسے وقت میں صوبوں کی تقسیم کی بات کرنا مناسب نہیں جب ’گھر میں آگ لگی ہوئی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جے یو آئی نے ماضی میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالفت کی تھی اور موجودہ حالات ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اختلافات ختم کرکے پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا، کیونکہ مضبوط اپوزیشن ہی حکومت کو قانون سازی اور اختیارات کے استعمال پر جواب دہ بنا سکتی ہے۔