اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق شمال مغربی شام میں ایک فضائی اڈے پر اسرائیل کے 8 فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جبکہ شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں ایئربیس کے رن وے اور ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
شام کے سرکاری نشریاتی ادارے الاخباریہ نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حملے منگل کی صبح ابو الظہور ایئربیس پر کیے گئے۔ ایک دوسرے فوجی ذریعے اور ایئربیس کے قریب رہنے والے ایک شہری کے مطابق حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی فوج نے حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ شامی وزارت دفاع کی جانب سے بھی واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
شام اور عراق کے لیے امریکی خصوصی صدارتی ایلچی سفیر ٹام بارک نے اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر ضروری کشیدگی قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ابو الظہور ایئربیس پر تصدیق شدہ اسرائیلی حملے علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے کے بجائے صورتحال کو مزید پیچیدہ کرتے ہیں۔
ٹام بارک نے کہا کہ امریکا اب بھی سمجھتا ہے کہ تحمل اور مذاکرات زیادہ تعمیری راستہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ مزید فوجی واقعات کے بجائے منطقی اور سنجیدہ مکالمے کو ترجیح دی جائے۔
