اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں کہا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں کے لیے پاکستان سے اسلحہ اسمگل کیے جانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے فضول، بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ افغانستان پہلے ہی جدید اسلحے اور فوجی سازوسامان کی بڑی مقدار سے بھرا ہوا ہے، جو 2021 میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑا گیا تھا۔
وزارت کے مطابق امریکی انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کی مالیت تقریباً 7.2 ارب ڈالر تھی، جبکہ کئی دہائیوں کی جنگ کے دوران جمع ہونے والا سوویت دور کا اسلحہ بھی بڑی مقدار میں موجود ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے ہتھیاروں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ ایک زیادہ سنگین اور دستاویزی مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ وزارت نے الزام عائد کیا کہ دہشتگرد گروہوں کو افغان سرزمین پر اب بھی جگہ، سہولت کاری اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔
پاکستان نے افغان طالبان حکام پر زور دیا کہ وہناقابل یقین الزامات اور الزام تراشی کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کریں اور اپنے ان وعدوں کو پورا کریں جن کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
پاکستان ماضی میں افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نیٹ ورک پر بھی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ نومبر 2024 میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان میں موجود 7.2 ارب ڈالر کے امریکی فوجی سازوسامان کا حوالہ دیتے ہوئے افغان حکومت کو خطے کے لیے سیکیورٹی خطرہ قرار دیا تھا۔
2023 کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کے افغانستان میں نیٹ ورک اور افغان طالبان سے روابط کا ذکر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے 2023 کے وسط میں خیبر پختونخوا میں نیا اڈہ قائم کیا، جبکہ بعض طالبان ارکان بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ارکان اور ان کے خاندانوں کو طالبان کی جانب سے امدادی پیکیجز فراہم کیے جاتے رہے، جبکہ ٹی ٹی پی میں افغان شہریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
