اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا کی حمایت یافتہ غزہ منصوبہ مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کے مکمل غیرمسلح ہونے تک غزہ سے انخلا نہیں کرے گی۔ اس اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان پالیسی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔ مذکورہ منصوبے کو حماس نے جولائی کے اواخر میں منظور کیا تھا اور اسے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کسی قسم کا انخلا اس وقت تک نہیں کرے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیرمسلح نہیں کردیا جاتا۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج اپنے اہلکاروں اور شہریوں کو لاحق خطرات کا مقابلہ جاری رکھے گی۔
نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں ہمارا سب سے بڑا دوست قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل امریکی تجاویز سے اختلاف کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ منصوبے پر اپنے اعتراضات واشنگٹن کے سامنے پیش کردیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس مختلف تجاویز ہیں، جن میں سے کچھ اسرائیل کے لیے قابل قبول ہیں جبکہ کچھ نہیں، اور اسرائیل ان معاملات پر اپنے مؤقف پر قائم رہنا جانتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کے مستقبل، حماس کے غیرمسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے ممکنہ انخلا پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے طویل عرصے سے ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے، جبکہ ٹرمپ نے بھی اپنی پہلی مدت صدارت سے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی ہے۔
امریکا کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت کے حوالے سے پالیسی میں بڑی تبدیلی اور امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنا ٹرمپ کے اہم اقدامات میں شامل رہا ہے۔ تاہم ایران کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات سامنے آئے، جب ٹرمپ نے جنگ بندی کی کوششوں پر زور دیا۔
