Election frenzy begins in Bagh, Haveli, 82 candidates face off for 4 seats

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے میں باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں پولنگ کا آغاز ہوگیا، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے متوقع ہیں۔ اس مرحلے کے نتائج 45 رکنی قانون ساز اسمبلی میں طاقت کے توازن اور آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے اہم قرار دیے جارہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق چار حلقوں میں مجموعی طور پر 460,371 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں، جن میں 238,664 مرد اور 221,707 خواتین شامل ہیں۔ ووٹنگ کے لیے 803 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 1,254 پولنگ بوتھ ہوں گے۔ چار نشستوں پر مجموعی طور پر 82 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔

تیسرے مرحلے میں ایل اے-14 باغ-I، ایل اے-15 باغ-II، ایل اے-16 باغ-III اور ایل اے-17 باغ/حویلی کہوٹہ شامل ہیں۔ اہم امیدواروں میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور، سابق وزرائے اعظم سردار عتیق احمد خان اور سردار تنویر الیاس خان، مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر مشتاق منہاس، جماعت اسلامی کے بریگیڈیئر (ر) محمد خان، پیپلز پارٹی کے ضیا القمر اور قمر زمان جبکہ مسلم لیگ (ن) کے میر اکبر، محسن عزیز اور فیصل آزاد شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے پولنگ عملے کو غیرجانبداری برقرار رکھنے اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پولنگ شام 5 بجے ختم ہوگی، جس کے فوراً بعد متعلقہ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی شروع کردی جائے گی۔ امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو گنتی کے عمل میں موجود رہنے اور نتائج کی نقول حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

پہلے دو مراحل کے بعد مسلم لیگ (ن) 24 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت جبکہ پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارلیمانی قوت بن چکی ہے۔ تیسرے مرحلے کے نتائج ن لیگ کی موجودہ برتری کو مزید مضبوط کرنے یا سیاسی نقشہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔