Anthropic's surprising confession Claude AI hacked the systems of three organizations during testing

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیوزکی خبر کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے درمیان امریکی کمپنی اینتھروپک نے ایک اہم سیکیورٹی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس کا جدید ماڈل کلوڈ اے آئی ٹیسٹنگ کے دوران کنفیگریشن کی ایک غلطی کے باعث انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، جس کے بعد اس نے تین مختلف اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں غیر مجاز طور پر داخل ہو کر سیکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھایا۔

کمپنی کے مطابق یہ واقعہ کسی بیرونی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹیسٹنگ ماحول میں ہونے والی تکنیکی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔ اینتھروپک نے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے اوپن اے آئی نے اپنی سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹ سے متعلق ایک غیر معمولی واقعے کی تفصیلات جاری کیں، جس کے بعد اینتھروپک نے بھی اپنے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹس کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔

کمپنی نے بتایا کہ مجموعی طور پر 141,006 ٹیسٹ سیشنز کا تجزیہ کیا گیا، جس کے دوران معلوم ہوا کہ کلوڈ کے بعض ماڈلز ایسے ماحول میں بھی انٹرنیٹ سے منسلک ہوگئے جہاں انہیں مکمل طور پر الگ رکھا جانا چاہیے تھا۔ اس غیر متوقع رسائی کے باعث تین مختلف اداروں کے سسٹمز متاثر ہوئے۔

اینتھروپک کے مطابق یہ واقعات کلوڈ اوپس 4.7 ، کلوڈ مائیتھوس -5 اور ایک اندرونی تحقیقی ماڈل سے متعلق تھے، جبکہ ابتدائی سرگرمیاں اپریل 2026 میں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ تمام ٹیسٹ کیپچر دی فلیگ نامی سائبر سیکیورٹی مشق کے دوران کیے جا رہے تھے، جس میں اے آئی ماڈلز کو فرضی نیٹ ورکس کے اندر موجود معلومات تلاش کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔

کمپنی نے کہا کہ کلوڈ نے پیچیدہ ہیکنگ ٹولز استعمال نہیں کیے بلکہ کمزور پاس ورڈز اور ایسے اینڈ پوائنٹس سے فائدہ اٹھایا جہاں مناسب تصدیقی نظام موجود نہیں تھا۔ اس واقعے نے واضح کیا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز بنیادی نوعیت کی سائبر کمزوریوں کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اینتھروپک کے مطابق 23 جولائی کو ٹیسٹنگ ریکارڈز کا جائزہ شروع کیا گیا، اسی روز تمام سائبر سیکیورٹی ٹیسٹس عارضی طور پر روک دیے گئے، جبکہ 24 جولائی تک تینوں واقعات کی تصدیق کر لی گئی۔ 27 جولائی کو متاثرہ اداروں کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ دو اداروں کو اس سرگرمی کا پہلے سے علم نہیں تھا جبکہ تیسرے ادارے سے رابطے کی کوشش جاری ہے۔

کمپنی نے اس واقعے کو مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے تناظر میں ایک اہم انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں اے آئی ماڈلز کی جانچ کے لیے اندرونی اور بیرونی دونوں ٹیسٹنگ ماحول میں مزید سخت حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوں گے تاکہ کسی بھی غیر ارادی سائبر سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔