Trump and Netanyahu have significant differences on Iran, US President angry over leak of sensitive information

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے قبل ٹرمپ نے نیتن یاہو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق حساس معلومات میڈیا میں لانا غیر ضروری تھا۔

فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر نیتن یاہو کے پاس ایران کے زیرِ زمین جوہری مرکز پک ایکس ماؤنٹین سے متعلق معلومات تھیں تو وہ براہِ راست انہیں بتاتے، پوری دنیا میں اس کا چرچا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ امریکہ مسلسل اس معاملے میں سرگرم رہے۔

یہ ردعمل نیو یارک پوسٹ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو ٹرمپ کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کریں گے جن کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید وسعت دے رہا ہے اور امن مذاکرات کے حوالے سے درست مؤقف اختیار نہیں کر رہا۔

اگرچہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے اسے انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور باہمی تعاون پر اتفاق پایا گیا۔ ان کے مطابق دونوں کا مشترکہ مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔