Pakistan and Iran agree to increase cooperation on terrorism, border security and railways, vow to further strengthen bilateral ties

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور علاقائی استحکام کے لیے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق رائے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا۔ دونوں وزرائے داخلہ نے پہلے ون آن ون ملاقات کی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

مذاکرات کے دوران دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی نظم و نسق کے معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں اور معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی روابط پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے اہم ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بھی ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ریلوے تعاون، علاقائی رابطوں اور تجارتی روابط کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حنیف عباسی نے کہا کہ ایرانی وزیر داخلہ کا دورہ پاکستان دونوں ہمسایہ ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

ایرانی وفد نے اپنے دورے کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان کے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ، نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔ ایرانی وفد نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی اور استعداد کو سراہا۔