Security tightened at Saindak project in Balochistan, government rejects reports of closure

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیوزکی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بلوچستان میں چین کے تعاون سے جاری سیندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منصوبہ معمول کے مطابق فعال ہے اور اس کی بندش سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں۔ حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں جاری تمام بین الاقوامی سرمایہ کاری اور غیر ملکی منصوبوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث ایندھن کی ترسیل میں مشکلات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ رسد میں رکاوٹوں کے باعث منصوبے کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم منصوبے کی انتظامیہ اور پاکستانی حکام نے اس تاثر کو مسترد کر دیا۔

سیندک میٹلز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رازق سنجرانی نے بندش کی خبروں کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیندک منصوبہ گزشتہ 25 برس سے مسلسل کامیابی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس کے بند ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ان کے مطابق بعض ٹرانسپورٹرز نے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث فرنس آئل کی ترسیل پر تحفظات ظاہر کیے تھے، جس کے بعد کمپنی نے متعلقہ حکومتی اداروں سے تعاون کی درخواست کی۔

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ سکیورٹی اداروں نے منصوبے کو فرنس آئل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ رسد کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ منصوبے کی پیداوار اور آپریشن کسی قسم کی رکاوٹ کا شکار نہ ہوں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو جولائی کے آغاز میں منصوبے کی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا تھا، جس کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اداروں کو اضافی حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی کمپنیوں اور ان کے منصوبوں کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسے اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کی تفصیلات کا علم نہیں، تاہم بیجنگ پاکستان کے ساتھ مل کر ملک میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔