There will be no trade agreement with the US without better conditions, India's categorical stance

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکا کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدہ جلد مکمل کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئی دہلی ایسے کسی بھی معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا جس میں اسے چین سمیت دیگر ممالک کے مقابلے میں واضح تجارتی اور ٹیرف برتری حاصل نہ ہو۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاہدہ ایک بار پھر مؤخر ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی روز تک مذاکرات ہوئے، تاہم واشنگٹن نئی دہلی کے بنیادی مطالبات پر یقین دہانی کرانے میں ناکام رہا۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں نئی امریکی درآمدی ڈیوٹیوں سے تحفظ اور بہتر تجارتی شرائط کے بغیر کسی بھی معاہدے سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب بھارت کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے سمیت کسی بھی حساس معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب بھی بھارت کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدے کی خواہاں ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق مذاکرات پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافے، دیگر ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدوں اور مضبوط معاشی صورتحال نے بھارت کی مذاکراتی پوزیشن مزید مستحکم کر دی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جون کے دوران بھارت کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکا کو بھارتی برآمدات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ مذاکرات میں تعطل برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک آئندہ ہفتوں میں اختلافات کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے، کیونکہ تجارتی تعلقات دونوں معیشتوں کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔