اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل دو جماعتی امریکی انتخابی معاونتی کمیشن کے باقی ماندہ تین ارکان کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا، جس کے بعد وفاقی ادارہ مکمل طور پر خالی ہو گیا ہے۔ اس اقدام نے امریکا میں انتخابی شفافیت، غیرجانبداری اور آئندہ انتخابی عمل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تحقیقی ادارے پرو پبلکا کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کمیشن کے دو ڈیموکریٹ ارکان بینجمن ہوولینڈ اور تھامس ہکس کو برطرف کر دیا، جبکہ ریپبلکن رکن کرسٹی میک کارمک نے استعفیٰ دے دیا۔ اس سے قبل اپریل میں ریپبلکن رکن ڈان پالمر بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے تھے۔
اس پیش رفت کے بعد چار رکنی انتخابی معاونتی کمیشن مکمل طور پر ارکان سے خالی ہو گیا ہے، جس سے آئندہ انتخابات کی نگرانی اور اہم انتخابی فیصلوں کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ کمیشن 2003 میں قائم کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ریاستی انتخابی نظام کے لیے معیارات طے کرنا، ووٹنگ کے نظام کو جدید بنانا اور مختلف ریاستوں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔ کمیشن میں دو ریپبلکن اور دو ڈیموکریٹ ارکان شامل ہوتے تھے، جنہیں صدر کی سفارش پر سینیٹ کی منظوری سے تعینات کیا جاتا تھا۔
صدر ٹرمپ کے فیصلے پر ووٹر حقوق کی تنظیموں اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا ہے۔ نیواڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ اور ڈیموکریٹک ایسوسی ایشن آف سیکریٹریز آف اسٹیٹ کے چیئرمین سسکو اگیولر نے اس اقدام کو "غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ریاستی انتخابی اداروں کو وہ خلا خود پُر کرنا پڑے گا جو وفاقی کمیشن کے غیر فعال ہونے سے پیدا ہوا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو عہدوں سے ہٹائیں جو امریکی انتخابات کے تحفظ اور صرف قانونی ووٹوں کی گنتی کے حکومتی مؤقف سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہ ہوں۔
رپورٹ کے مطابق اب صدر ٹرمپ کو کمیشن میں نئے ارکان نامزد کرنے کا موقع ملے گا، جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ انتظامیہ کی انتخابی اصلاحات سے متعلق پالیسیوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔
رواں سال مارچ میں صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں قومی ووٹر رجسٹریشن فارم میں تبدیلی کرتے ہوئے ووٹرز کے لیے امریکی شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس تجویز پر لاکھوں عوامی آراء موصول ہوئی تھیں، تاہم کمیشن کے تمام ارکان کے عہدے چھوڑنے یا برطرف ہونے کے بعد اس معاملے کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔
انتخابی امور پر کام کرنے والے ادارے بائی پارٹیزن پالیسی سینٹر نے بھی کمیشن کے ارکان کی رخصتی کو وفاقی انتخابی نظام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
