Four oil and gas tankers divert after attacks in the Strait of Hormuz, raising concerns about maritime security

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی بحری نقل و حمل شدید متاثر ہونے لگی ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق کم از کم چار آئل اور ایل این جی ٹینکرز نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے قبل اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب منگل کو ایک قطری ایل این جی بردار جہاز اور سعودی پرچم بردار خام تیل کے ٹینکر کو آبنائے ہرمز کے قریب حملوں میں نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے بعد عالمی بحری حکام نے اس اہم آبی گزرگاہ میں خطرے کی سطح بڑھا کر شدید قرار دے دی۔

جہاز رانی کے تجزیاتی اداروں کیپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق قطر انرجی کے زیر انتظام تین خالی ایل این جی ٹینکرز الغاریہ ، دوحیل اور الرویس قطر کے راس لفان ایل این جی ایکسپورٹ ٹرمینل کی جانب جا رہے تھے تاکہ نئی کھیپ لوڈ کر سکیں، تاہم آبنائے ہرمز کے قریب پہنچ کر تینوں نے یوٹرن لے لیا۔

اسی طرح ایک بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر بھی، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل کویتی خام تیل لے کر جا رہا تھا، عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے واپس مڑ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق فروری کے آخر میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد اب تک راس لفان سے 16 جبکہ متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ سے 10 ایل این جی کارگو کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، تاہم یہ معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔ دونوں برآمدی مراکز سے اوسطاً ہر ماہ تقریباً 70 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی عالمی منڈیوں کو سپلائی کی جاتی ہے۔

ادھر بحری تجزیاتی ادارے ورتیکسا کے مطابق راس لفان کے قریب خالی جہازوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور جولائی کے آغاز تک 10 سے زائد ٹینکرز کارگو لوڈ کرنے کے انتظار میں موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق قطر انرجی اور اے دی این او سی کے زیر انتظام 50 سے زائد خالی ٹینکرز خلیج، بھارت اور آبنائے ملاکا کے اطراف موجود ہیں، جن میں سے بعض نے کئی روز سے اپنے آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم بھی بند کر رکھے ہیں۔

دوسری جانب تمام خدشات کے باوجود دو بڑے خام تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب رہے۔ جاپانی کمپنی نپون یوسین کے زیر انتظام ٹینجن تقریباً 20 لاکھ بیرل قطری خام تیل لے کر منگل کی شب آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا، جبکہ انڈونیشیا کی سرکاری کمپنی پرٹامینا کے زیر انتظام پرتامینا پرائیڈ بھی تقریباً 20 لاکھ بیرل سعودی خام تیل کے ساتھ آبنائے عبور کر گیا۔