Ayatollah Ali Khamenei's funeral in Iran, Prime Minister Shehbaz Sharif arrives in Tehran

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز ہو گیا ہے، جبکہ نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکومتی شخصیات تہران پہنچ رہی ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی ایک روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں عوام کی بڑی تعداد آخری دیدار کے لیے موجود ہے۔ ایران میں کئی روزہ سوگ اور جنازے کی تقریبات کے بعد 9 جولائی کو مشہد میں تدفین کی جائے گی، جبکہ قم سمیت مختلف شہروں میں بھی تعزیتی اجتماعات منعقد ہوں گے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، نیئر حسین بخاری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی ایران گئے ہیں۔ وزیراعظم نماز جنازہ میں شرکت کے علاوہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں بھی کریں گے اور پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ ایران کے بعد وزیراعظم ترکی کا بھی دورہ کریں گے۔

دوسری جانب سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی بھی الگ اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ تہران پہنچے، جہاں ایرانی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مذہبی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور پاکستان ان تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

اسی دوران عراق کے صدر نزار امیدی بھی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں، جبکہ مختلف اسلامی ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید مجید ابن رضا نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکا کے ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا ہے، تاہم تہران کو واشنگٹن پر کسی قسم کا اعتماد نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور تہران واشنگٹن کے بیشتر مطالبات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

قطر اور پاکستان کی ثالثی میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کا انعقاد بھی آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت میں آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات زیر غور ہیں۔