اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے اور خلیجی ممالک میں موجود بعض فوجی اثاثوں کو مزید مغرب کی جانب، ممکنہ طور پر اسرائیل منتقل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی سکیورٹی اور دفاعی استعداد سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد ایران نے خلیجی خطے میں متعدد امریکی اور اتحادی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے، تاہم امریکی محکمہ دفاع نے اب تک نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تنصیبات میں شامل ہے۔ حملوں کے نتیجے میں ہیڈکوارٹر کی عمارت، بیرکس، گوداموں اور پانی ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس کا ابتدائی تخمینہ 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ بحرین میں زیر زمین کمانڈ سینٹرز کی تعمیر، فوجی تنصیبات کو مزید محفوظ بنانے اور بعض تباہ شدہ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے سمیت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کویت اور سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض فوجی اثاثوں کو اسرائیل منتقل کرنے کی ابتدائی منصوبہ بندی زیر غور ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی فوجی طیارے پہلے ہی بین گوریان ایئرپورٹ پر تعینات کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں سے سات ممالک میں قائم 11 امریکی فوجی اڈوں کی 70 عمارتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 5 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کے پیش نظر امریکا کو اپنی فوجی تعیناتی اور دفاعی حکمت عملی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
