Sindh Assembly approves budget for fiscal year 2026-27, allocates Rs720 billion for development programs

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق سندھ اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 562 ارب روپے کا خسارے پر مبنی بجٹ اکثریتی ووٹ سے منظور کرلیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دی گئیں۔

بجٹ کے ساتھ سندھ فنانس بل بھی منظور کیا گیا، جس کے تحت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا تاہم موجودہ ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ اسمبلی نے 165 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ 3.562 ٹریلین روپے کا بجٹ مالیاتی نظم و ضبط، ترقی اور عوامی فلاح کا متوازن منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وسائل میں کمی، 344 ارب روپے کے خسارے اور گزشتہ سال 95 ارب روپے کے اضافی اخراجات کے باوجود حکومت نے تقریباً 100 بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔

انہوں نے آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صرف کراچی کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں 1,800 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق بجٹ میں کیٹی بندر لاجسٹک ہب، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، گرین انرجی نیٹ ورک، چھوٹے کسانوں کے لیے زرعی مالیاتی نظام، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی نمایاں فنڈز رکھے گئے ہیں، جبکہ انتظامی اخراجات میں 62 ارب روپے سے زائد کی کمی کر کے وسائل ترقیاتی منصوبوں کی طرف منتقل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے تحت اب تک 10 لاکھ مکانات مکمل جبکہ 6 لاکھ مزید زیر تعمیر ہیں، جبکہ ورلڈ بینک گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران سندھ کے لیے تقریباً 1.7 ارب ڈالر کی منظوری دے چکا ہے۔

دوسری جانب قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے بجٹ کو دعوؤں اور اعلانات کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عام شہری، مزدور، کسان اور متوسط طبقے کے لیے مؤثر ریلیف موجود نہیں۔ انہوں نے 273 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس، ترقیاتی فنڈز کے استعمال، سرکاری اخراجات، پانی، گیس، حیدرآباد۔سکھر موٹروے، سرکاری بھرتیوں اور بدعنوانی سمیت متعدد معاملات پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سات روز تک جاری رہنے والی بجٹ بحث میں حکومت اور اپوزیشن کے 143 ارکان اسمبلی نے حصہ لیا، جس کے بعد بجٹ اور متعلقہ مالیاتی بل کو اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔