Treatment of injured Taliban official in India revealed, claims of being injured in border clash

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان انٹرنیشنل کی خبر کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں ایک زخمی طالبان اہلکار کے بھارت میں علاج کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں زخمی ہونے والا کم از کم ایک طالبان رکن اس وقت نئی دہلی میں زیرِ علاج ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان انٹرنیشنل کے نمائندے نے جمعہ کے روز نئی دہلی میں مذکورہ زخمی طالبان اہلکار سے ملاقات کی، جو دو معاونین کے ہمراہ بھارتی دارالحکومت کے علاقے لاجپت نگر میں مقیم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ چلنے پھرنے میں شدید دشواری محسوس کر رہا تھا۔

طالبان اہلکار نے دعویٰ کیا کہ وہ اسپین بولدک کے علاقے میں پاکستان اور طالبان فورسز کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپ کے دوران زخمی ہوا تھا۔ اس کے مطابق طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کی ہدایت پر اس کے علاج کے لیے بھارت جانے کے انتظامات کیے گئے، جبکہ کابل میں بھارتی سفارت خانے نے ویزا کے اجرا میں تعاون فراہم کیا۔

طالبان انتظامیہ کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے بھی بالواسطہ طور پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی مریضوں کو علاج کی غرض سے بھارت بھیجا جاتا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس مخصوص معاملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

بھارت کی جانب سے اس خبر پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس وقت علاج کے لیے کتنے طالبان ارکان بھارت میں موجود ہیں۔

پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان سرحدی تنازعات گزشتہ چند برسوں سے وقفے وقفے سے جاری ہیں، جن میں سرحدی فائرنگ، فضائی کارروائیاں اور براہِ راست مسلح جھڑپیں شامل رہی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد سامنے نہیں آ سکی۔ اقوام متحدہ اس سے قبل خبردار کر چکی ہے کہ ان کشیدگیوں کا سب سے زیادہ اثر سرحدی علاقوں کے عام شہریوں پر پڑا ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک طالبان حکومت کے کم از کم تین وزرا بھارت کا دورہ کر چکے ہیں، جن میں وزیر خارجہ امیر خان متقی، وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی اور وزیر صحت عامہ نور جلال جلالی شامل ہیں۔