Admit the truth, US Vice President openly criticizes Israeli ministers

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ معاہدے پر اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے سب سے اہم اور طاقتور اتحادی امریکا کے خلاف بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں امریکا ہی وہ طاقت ہے جو اسرائیل کی بھرپور حمایت کر رہا ہے، اس لیے اسرائیلی قیادت کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو دنیا میں موجود اپنے واحد طاقتور اتحادی کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہ کرتے۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ ہمدرد عالمی رہنما ہیں اور اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں : اسرائیلی حملوں کے باعث امریکا۔ایران مذاکرات تعطل کا شکار، سوئٹزرلینڈ اجلاس منسوخ

جے ڈی وینس نے یاد دلایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی دفاعی ہتھیار امریکا نے فراہم کیے اور ان کی مالی معاونت بھی امریکی ٹیکس دہندگان نے کی۔

انہوں نے اسرائیلی وزرا سے سوال کیا کہ اگر وہ ایران معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں تو ان کے پاس متبادل حکمت عملی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے ہر سکیورٹی مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سفارت کاری بھی ناگزیر ہے۔

امریکی نائب صدر نے بالواسطہ طور پر اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانا ہوگی۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی نوعیت کے حملوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔