Gulf tensions benefit Pakistan, with significant increase in ship arrivals at Karachi Port
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوزکی رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث عالمی شپنگ روٹس میں تبدیلی نے پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ کراچی پورٹ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جہاں رواں مالی سال کے دوران آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر بحری جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
وزارتِ بحری امور کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 2,003 بحری جہاز لنگر انداز ہوئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 7.5 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کا مجموعی کارگو وزن 84.4 ملین ٹن سے تجاوز کر گیا، جو ملکی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے اس پیش رفت کو قومی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پورٹ پر بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے تجارتی شعبے پر عالمی اعتماد کا اظہار ہیں۔ ان کے مطابق بہتر انتظامی حکمتِ عملی، آپریشنل استعداد میں اضافہ اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس کامیابی کی اہم وجوہات ہیں۔
وزارت کے بیان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین نے کہا کہ بندرگاہ کی کارکردگی میں بہتری، جدید سہولیات اور تیز تر آپریشنز کی بدولت جہازوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران گراس رجسٹرڈ ٹنیج میں بھی تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے دوران خلیج میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنے کارگو آپریشنز کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کیا، جس سے پاکستان خصوصاً کراچی پورٹ کو نمایاں فائدہ پہنچا۔ کئی بین الاقوامی جہازوں نے اپنی ترسیلات عارضی طور پر پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنا شروع کیں، جس کے نتیجے میں بندرگاہی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔



