US and Iran agree on initial ceasefire agreement, signing expected on Friday
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ اس مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔ اس پیش رفت کو حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پاکستان کی ثالثی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے ابتدائی فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ کیا جائے گا، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بھی تصدیق کی ہے کہ معاہدے کے تحت جنگی سرگرمیوں کو روکنے کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی مسودے میں آبنائے ہرمز کو 30 روز کے اندر دوبارہ کھولنے، ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل و پیٹروکیمیکل مصنوعات پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور اقتصادی پابندیوں میں مزید نرمی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کے دوران تقریباً 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد ایرانی اثاثوں کی مرحلہ وار فراہمی زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات دستخط کے بعد سامنے آئیں گی۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان مکمل اتفاق رائے ابھی نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 60 روزہ مذاکرات میں یورینیم افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر حساس معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ایران نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
دوسری جانب چین نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آبنائے ہرمز جلد از جلد کھولنے پر زور دیا ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد اور امریکی خام تیل کی قیمت میں 4.6 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔




