Taliban commander sentenced to 42 years in prison for kidnapping American journalist
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کی وفاقی عدالت نے امریکی صحافی ڈیوڈ روڈ کے اغوا اور دہشت گردی کی معاونت کے جرم میں طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حاجی نجیب اللہ نے گزشتہ سال یرغمال بنانے اور دہشت گرد تنظیم کی معاونت کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2008 میں اس وقت نیویارک ٹائمز کے رپورٹر ڈیوڈ روڈ، افغان صحافی طاہر لودین اور ان کے ڈرائیور اسداللہ منگل کے اغوا میں کردار ادا کیا تھا۔
مین ہیٹن کی وفاقی عدالت کی جج کیتھرین پولک فیلا نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کے اقدامات میں دہشت گرد سرگرمیوں کی معاونت شامل تھی اور یرغمالیوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک نفسیاتی تشدد اور سنگدلانہ رویے کی مثال تھا۔
استغاثہ نے عدالت سے عمر قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔ پراسیکیوٹرز کا مؤقف تھا کہ عام شہریوں کو یرغمال بنانا انتہائی سنگین اور اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول جرم ہے۔ ان کے مطابق حاجی نجیب اللہ ان حملوں کا بھی ذمہ دار تھا جن میں 2008 کے دوران اس کے زیرِ کمان جنگجوؤں نے تین امریکی فوجیوں اور ایک افغان مترجم کو ہلاک کیا تھا۔
سزا سنائے جانے سے قبل حاجی نجیب اللہ نے عدالت میں ڈیوڈ روڈ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا اور وہ اس میں اپنے کردار پر پشیمان ہے۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے ڈیوڈ روڈ نے 2008 کے حملے میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں اور افغان مترجم کا ذکر کیا اور کہا کہ یرغمال بنانا ایک ظالمانہ اور بزدلانہ جرم ہے جس کے اثرات متاثرہ خاندانوں پر طویل عرصے تک رہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اغوا کار کئی ماہ تک یرغمالیوں کے بدلے تاوان اور طالبان قیدیوں کی رہائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران یرغمالیوں سے ویڈیوز اور فون کالز بھی کروائی گئیں۔
سات ماہ قید میں رہنے کے بعد ڈیوڈ روڈ اور طاہر لودین رات کے وقت ایک دیوار سے رسی کے ذریعے اتر کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پیدل چلتے ہوئے پاکستان کی ایک فوجی چوکی تک پہنچ گئے۔



