Arrival of US delegation, Iran's tough stance - negotiations uncertain
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔ اس دوران امریکی وفد کی پاکستان آمد متوقع ہے، جہاں اہم رابطے متوقع ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڑرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کی موجودگی میں ایران کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کا امکان ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہیں اور انہوں نے وزیر خارجہ اسحاق ڈاز سے ملاقات بھی کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا کہ تہران براہِ راست مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا اور اپنی شرائط و تحفظات پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائے گا۔ ذرائع کے مطابق امریکی سیکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی دارالحکومت میں متحرک ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بہتر معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے، بشرطیکہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر قابلِ تصدیق پیش رفت کرے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر نئی پیشکش تیار کر رہا ہے، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکا کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے باوجود خطے میں صورتحال غیر یقینی ہے، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں بھی مزید تین ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاہم براہِ راست بات چیت سے انکار ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔





