اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں سکھ علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس کی جانب سے منعقدہ ریفرنڈم طرز کی سرگرمی میں 23 ہزار سے زائد ووٹ ڈالے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق 18 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ مقررہ وقت کے بعد بھی جاری رکھی گئی تاکہ قطاروں میں موجود افراد کو اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔
یہ سرگرمی البرٹا لیجسلیچر گراؤنڈز میں منعقد کی گئی اور خالصتان کے نام سے ایک آزاد سکھ ریاست کے قیام کے لیے تنظیم کی عالمی مہم کا حصہ تھی۔ تاہم اس ووٹنگ کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں اور اس کے نتائج قانونی یا آئینی طور پر پابند نہیں ہیں۔
اس سرگرمی کے بعد تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے تین نکاتی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ اس میں بیرونِ ملک ریفرنڈم جاری رکھنا، بھارت کے اندر حکومت مخالف سیاسی اور نوجوانوں کی تحریکوں کی حمایت کرنا، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر بھارتی منڈیوں سے سرمایہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔
پنوں نے اس حکمت عملی کو ففتھ جنریشن وارفیئر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ان کا فوری سیاسی مقصد ہے۔ ان کے مطابق خالصتان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
امریکا میں مقیم وکیل پنوں امریکی اور کینیڈین شہریت رکھتے ہیں اور سکھ علیحدگی پسند تحریک کے نمایاں حامی ہیں۔ بھارت نے 2020 میں انہیں دہشت گرد قرار دیا تھا اور انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت سکھس فار جسٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
پنوں امریکا میں ایک مبینہ قتل کی سازش کا ہدف بھی رہے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق بھارتی شہری نکھل گپتا نے فروری 2026 میں ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے میں ایک بھارتی سرکاری اہلکار کی ہدایت کا معاملہ شامل تھا۔
ایڈمنٹن میں ہونے والی سرگرمی اور ایس ایف جے کے اعلان نے بھارت مخالف علیحدگی پسند مہم کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، تاہم اس حکمت عملی کے عملی اور سیاسی نتائج کا اندازہ آئندہ پیش رفت سے ہی لگایا جا سکے گا۔
