اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ مالی گوشواروں میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی حاصل کی، جس کا بڑا حصہ ان کے خاندان کے کرپٹو کرنسی کاروبار سے آیا۔
امریکی آفس آف گورنمنٹ ایتھکس میں جمع کرائے گئے 2025 کے مالی گوشواروں کے مطابق ٹرمپ کی کمپنیوں کو ورلڈ لبرٹی فنانشل سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، جس میں 52 کروڑ ڈالر سے زائد کرپٹو ٹوکنز کی فروخت اور 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ کاروباری حصص کی فروخت شامل ہے۔
دستاویزات کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ٹرمپ میم کوائن کی فروخت سے بھی 63 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کمائے۔ رائٹرز کے اندازے کے مطابق 2025 میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ٹرمپ خاندان کرپٹو منصوبوں سے مجموعی طور پر 2.3 ارب ڈالر سے زائد آمدنی حاصل کر چکا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کرپٹو انڈسٹری کے حق میں متعدد اقدامات کیے، جن میں اسٹیبل کوائنز سے متعلق قوانین، ریگولیٹری نرمی اور کرپٹو سیکٹر کے لیے سازگار پالیسیاں شامل ہیں۔
مالی گوشواروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرمپ نے مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ قانونی تصفیوں سے 8 کروڑ ڈالر سے زائد جبکہ بیرون ملک جائیدادوں پر اپنے نام کے لائسنس کے ذریعے بھی لاکھوں ڈالر کمائے۔
دوسری جانب ان کے روایتی کاروبار، خصوصاً گالف کلبز اور ریزورٹس بھی منافع بخش رہے۔ 2025 کے دوران ان کاروباروں کی آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 50 کروڑ ڈالر سے زائد ہو گئی۔ فلوریڈا کے معروف مار-اے-لاگو کلب کی آمدنی 5 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ویسٹ پام بیچ کلب کی آمدنی میں بھی 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں ملوث ہونے والا کوئی اقدام نہیں کیا، جبکہ سابق امریکی اخلاقی امور کے ماہر ڈان فاکس نے اس معاملے پر مزید سخت قوانین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے مالی مفادات سے متعلق شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
