اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے عالمی عطیہ دہندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے جاری پروگراموں کی مالی معاونت کم کرنے کے بجائے بڑھائی جائے، کیونکہ فنڈز کی کمی ایسے وقت میں خواتین کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتی ہے جب ان کے حقوق کی صورتحال پہلے ہی دنیا میں بدترین قرار دی جارہی ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق ادارے کی افغانستان میں خصوصی نمائندہ سوزن فرگوسن نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی اقتدار میں واپسی کے پانچ سال بعد بھی افغان خواتین کے حالات مسلسل خراب ہورہے ہیں۔
فرگوسن کے مطابق اپریل میں 74 خواتین کی تنظیموں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے نصف سے زائد کو آئندہ ایک سال کے دوران اپنی سرگرمیاں معطل کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب ان تنظیموں کی خدمات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد خواتین کے حقوق محدود کرنے والے 100 سے زائد احکامات جاری کیے، جنہوں نے تعلیم، روزگار، نقل و حرکت، صحت اور انصاف تک رسائی سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔
افغانستان میں لڑکیوں کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم بدستور ممنوع ہے۔ یو این وومن کے مطابق 3,200 سے زائد خواتین کے سروے میں نصف سے زیادہ نے بتایا کہ وہ اب مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں، جبکہ 10 میں سے 7 خواتین نے اپنی ذہنی صحت کو خراب یا انتہائی خراب قرار دیا۔
فرگوسن نے تمام حکومتوں اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے امداد جاری رکھیں اور اس میں کمی کے بجائے اضافہ کریں۔ ان کے مطابق افغانستان اس وقت دنیا میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے سب سے شدید بحران کا سامنا کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی 1.7 ارب ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل اب تک صرف 25 فیصد فنڈ ہوپائی ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً تین چوتھائی خواتین کی تنظیموں کو 2025 میں مالی امداد میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تقریباً دو تہائی تنظیموں کے پاس صرف چھ ماہ یا اس سے کم عرصے تک کام جاری رکھنے کے لیے فنڈز باقی ہیں۔
دوسری جانب طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام اسلامی شریعت اور افغان ثقافت کی اپنی تشریح کے مطابق کرتے ہیں۔
ادھر 56 ممالک نے اقوام متحدہ میں مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، امریکا اور متحدہ عرب امارات بھی اس بیان میں شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان ممالک نے طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، وقار اور اختیار کو محدود کرنے کے لیے امتیازی احکامات کے بڑھتے ہوئے جال پر تشویش کا اظہار کیا۔
