Shahbaz Sharif appeals to the European Union to increase opportunities for Pakistani professionals.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ وزیراعظم شہباز شریف نے غیرقانونی ہجرت کی روک تھام کے ساتھ پاکستانی ہنرمندوں اور پیشہ ور افراد کے لیے یورپی ممالک میں قانونی مواقع بڑھانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو یورپی یونین کے داخلی امور اور ہجرت کے کمشنر میگنس برونر سے ملاقات کے دوران کہی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت اور نقل و حرکت کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ دونوں فریقوں کے 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے آٹھ اہم ستونوں میں شامل ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غیرقانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ اور تارکینِ وطن کی اسمگلنگ روکنے کے لیے قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات، مؤثر نفاذ اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اقدامات کر رہا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستانی ہنرمندوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی راستے بڑھانے سے یورپی ممالک کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ممکنہ تارکینِ وطن کو اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے استحصال سے بھی محفوظ رکھا جا سکے گا۔

میگنس برونر نے پاکستانی حکومت کے اقدامات اور تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کوششوں سے قانونی ہجرت کے مواقع بڑھیں گے اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی افرادی قوت کی نقل و حرکت کو فروغ ملے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زراعت کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ مختصر مدت میں ملکی ترقی کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے لائیو اسٹاک کے شعبے میں برآمدات بڑھانے اور حلال گوشت کی برآمدات کو فروغ دینے کے حکومتی اقدامات کا ذکر کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی ترقی کے لیے صوبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

وزیراعظم کے مطابق کسانوں کو کم قیمت کھاد، معیاری بیج، جدید مشینری اور پانی کے بہتر استعمال کے لیے تکنیکی سہولتیں فراہم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے گندم کے ذخائر کو ملکی ضروریات کے لیے کافی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بوائی سے پہلے گندم کی مناسب قیمت طے کرنا ضروری ہے تاکہ کسانوں کو محنت کا معاوضہ ملے اور صارفین کو سستی گندم دستیاب ہو۔ قیمت کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے پنجاب میں کسانوں کی ترقی، آبی زراعت، جھینگوں کی فارمنگ اور کسان کارڈ کے ذریعے براہِ راست سبسڈی جیسے اقدامات کو بھی سراہا۔