اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی خبر کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کرنے کے بعد یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول صنعاء میں دو میزائل لانچرز تباہ کردیے۔ اتحاد کے مطابق ان میں وہ لانچر بھی شامل تھا جسے ریاض کی طرف میزائل داغنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغامات میں کارروائی کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے آپریشن جاری ہیں۔
اس سے قبل ریاض کے رہائشیوں کو مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 42 منٹ پر موبائل فون پر شہری دفاع کا الرٹ موصول ہوا، جس میں ممکنہ فضائی خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔ چند منٹ بعد ایک دوسرے پیغام میں بتایا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ اتحاد نے بعدازاں تصدیق کی کہ یمن سے ریاض کی جانب داغا گیا میزائل روک کر تباہ کردیا گیا۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے مسلسل حملوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ اس کے مطابق فوجی آپریشن بین الاقوامی قانون، انسانی ہمدردی کے قانون اور رائج اصولوں کے مطابق ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی دارالحکومت، جنوبی شہروں اور مغربی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اتوار کو سعودی حکام نے بتایا کہ دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کا ملبہ خمیس مشیط اور احد رفیدہ میں گرا، جس سے ایک سعودی شہری اور ایک ایشیائی تارکِ وطن زخمی ہوئے۔ شہری دفاع کے مطابق تین رہائشی عمارتوں اور سات گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ہفتے کو مغربی سعودی عرب کے مختلف مقامات پر میزائلوں کا ملبہ گرا، جن میں مسجد الحرام سے تقریباً 20 کلومیٹر دور وادی المغمس، جدہ کا النزهہ محلہ، طائف کی وادی جلیل اور رابغ گورنری کا مرکز مستورہ شامل تھے۔ ان واقعات میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
اتحاد کے مطابق اتوار کو ریاض کی جانب آنے والے دو ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل، جبکہ جنوبی شہر خمیس مشیط کو نشانہ بنانے والا کروز میزائل بھی تباہ کیا گیا۔
بعدازاں جنوبی سعودی عرب کی طرف داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل روکنے کا اعلان کیا گیا۔ ہفتے کو طائف، ینبع اور ریاض کی جانب میزائلوں اور مشرقی علاقے کی طرف ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
حملوں کے باعث حرمین شریفین کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امورِ دینیہ کے سربراہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مقدس مساجد کی سلامتی اور حرمت سرخ لکیر ہے، جسے عبور نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق یہ حملے مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق شرعی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی ضوابط کے منافی ہیں۔
یہ حملے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جزوی بحالی کے دوران بھی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کے ایک مہلک حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اتوار کو ٹرمینل ون پر محدود ملکی پروازیں اور ٹرمینل ٹو پر قومی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازیں بحال کی گئیں۔ حکام نے مسافروں کو سفر سے پہلے پروازوں کی صورتِ حال کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی۔
