اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش منظور کرلی ہے۔ وفاقی حکومت نے اسی دوران گریڈ 20 کے افسر محمد یحییٰ اخونزادہ کی خدمات صوبائی حکومت کے سپرد کرنے اور ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کرنے کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صدر زرداری نے اتوار کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر منظوری دی۔ ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی سفارش، متعلقہ اداروں کی امن و امان سے متعلق رپورٹس اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق کابینہ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کوششوں سے دانستہ طور پر الگ ہورہی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیراعظم کو ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات پر مشتمل تحریری وضاحت ارسال کی تھی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کررہی تھی۔ ان اضلاع میں خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور لوئر جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔ بعض صوبائی اختیارات وفاق کو منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور رہی۔
انتظامی تبدیلیوں کے تحت ڈاکٹر فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ گریڈ 22 کے پی اے ایس افسر اس سے قبل وزارت توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری تھے۔ ان کی تعیناتی فوری طور پر مؤثر ہوگی اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔
دوسری جانب یحییٰ اخونزادہ کی خدمات سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت صوبائی حکومت کے سپرد کی گئی ہیں۔ وہ وزیراعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ، خیبر پختونخوا میں صحت، اطلاعات اور تعلیم کے سیکریٹری اور ڈیرہ اسماعیل خان کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق ضلع چارسدہ سے ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ حکومت کے پاس ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کی گنجائش کتنی باقی رہ گئی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور اب مزید گنجائش نہیں رہی۔
