اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں ممکنہ سیاسی احتجاج اور مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں، جبکہ دارالحکومت اور اٹک کے اہم مقامات پر 2 ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچائے جاچکے ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اخراجات کی منظوری مانگی ہے۔
یہ رقم کنٹینرز کے کرائے، پولیس اہلکاروں کی رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور آنسو گیس کے شیلز و ربڑ کی گولیوں سمیت انسداد ہنگامہ آرائی کے سامان کی خریداری پر خرچ ہوگی۔
پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد میں 20 ہزار سے 25 ہزار مظاہرین کے جمع ہونے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 27 ستمبر کو ملک کے مختلف حصوں سے شروع ہوکر تین سے چار روز میں وفاقی دارالحکومت پہنچ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی انتظامات 26 ستمبر کی شام تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ صورتحال تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مختلف کنٹریکٹرز نے 1,550 کنٹینرز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جن میں 350 ریڈ زون کو سیل کرنے کے لیے مختص ہوں گے۔ تقریباً ایک ہزار کنٹینرز داخلی راستوں، اہم شاہراہوں، ہائی سیکیورٹی زون اور دیگر اہم مقامات پر رکھے جائیں گے۔
ریڈ زون کے سات داخلی راستوں، جن میں خیابانِ سہروردی، اولڈ پریڈ گراؤنڈ/جناح ایونیو اور آغا خان روڈ شامل ہیں، پر بھی گیٹس بند کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ کنٹینرز کو ویلڈ کرکے ان میں ریت اور بجری بھری جارہی ہے تاکہ انہیں آسانی سے ہٹایا نہ جاسکے۔
پولیس نے پنجاب سے 16 ہزار اہلکار اور 4 ہزار اینٹی رائٹ کٹس جبکہ سندھ سے 2 ہزار اہلکار اور 3 ہزار کٹس طلب کی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے 3 ڈی آئی جیز، 7 ایس ایس پیز اور 18 ایس پیز بھی بلائے گئے ہیں۔
پولیس کی نقل و حرکت کے لیے 70 کوسٹرز، 30 ڈبل کیبن گاڑیوں اور بسوں کا انتظام کیا جارہا ہے، جبکہ تقریباً 50 موبائل واش رومز بھی ڈیوٹی پوائنٹس پر فراہم کیے جائیں گے۔
پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے 50 سے زائد عمارتیں حاصل کی گئی ہیں، جن میں سرکاری اسکول، مارکیاں، اسپورٹس کمپلیکس اور پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر شامل ہیں۔ پولیس کی رہائش کے لیے مختص بعض تعلیمی ادارے بھی بند کیے جارہے ہیں۔
راولپنڈی میں ریڈ زون کے تحفظ کے لیے 9 پولیس پکٹس قائم کی گئی ہیں جبکہ ڈولفن فورس مسلسل گشت کرے گی۔ اٹک میں بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، جہاں تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جانے کی تیاری ہے۔
اٹک برج اور ہارون برج پر کنٹینرز اور ریت سے بھرے بیگز رکھے جارہے ہیں جبکہ چچ اور غازی انٹرچینجز پر بھی اضافی نفری تعینات کی جارہی ہے۔ ان اقدامات کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک اور شہری آمدورفت متاثر ہونے کا امکان ہے۔
