اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان یا بھارت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، جبکہ پاک فوج جدید جنگی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بغیر رابطے کے لڑے جانے والے جنگی طریقوں کے مطابق اپنی دفاعی حکمت عملی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 30 اکتوبر کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان آپریشنل تیاری کے اعتبار سے آگے ہے اور افغانستان یا بھارت کی جانب سے آنے والے کسی بھی ڈرون کو روک سکتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تنازع کے دوران پاکستانی فورسز نے بھارت کے درجنوں جدید ڈرونز مار گرائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا روایتی تصور تبدیل ہو رہا ہے اور اب ڈرونز، سائبر صلاحیتوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
پاکستان بھی ان ٹیکنالوجیز کو اپنی دفاعی تیاریوں میں شامل کر رہا ہے، تاہم انہوں نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیتوں سے متعلق تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے پاس اپنی ڈرون ٹیکنالوجی یا صنعت موجود نہیں اور اسے بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔
انہوں نے بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے افغان طالبان پر بھی پاکستان مخالف عناصر کی معاونت کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہ پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان میں طالبان مخالف گروہ یا سابق افغان جرنیل موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کو تنہا نہیں کرنا چاہتا، تاہم افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کابل کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن افغان طالبان کو دہشت گردوں کی حمایت اور منشیات کی پیداوار روکنا ہوگی۔
ان کے بقول افغانستان کے پاس صرف دو مصنوعات ہیں: دہشت گردی اور منشیات۔
پاکستانی حکام کے مطابق 2026 کے دوران افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی میں 1,327 پاکستانی جاں بحق اور 2,484 زخمی ہوئے۔ حکام کا الزام ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان سے ہدایات، اسلحہ اور تربیت ملتی ہے۔
ان کے مطابق فتنہ الخوارج کے تقریباً 70 فیصد درانداز افغان نژاد ہیں، جبکہ افغانستان میں موجود سابق امریکی اور نیٹو اسلحہ بھی دہشت گرد گروہوں تک پہنچ رہا ہے۔
