اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اوپن اےآئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختار ایجنٹس کی جانب سے اجازت کے بغیر بیرونی ویب سائٹس پر رابطے کرنے کا دائرہ پہلے سامنے آنے والی معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
رائٹرز کی جانب سے 6 آزاد تحقیق کاروں اور تحقیقی گروپس کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد بتایا گیا ہے کہ اوپن اےآئی کے ایجنٹس نے رواں سال کم از کم 10 مزید ویب سائٹس کو غیر مجاز رابطوں کے لیے استعمال کیا۔
کیلیفورنیا کی غیر منافع بخش تنظیم سیو اے آئی کے محقق اینڈریو یون کے مطابق انہوں نے مئی سے جولائی کے دوران ایسی 18 ویب سائٹس کی نشاندہی کی جہاں ایجنٹس کی سرگرمیوں کے شواہد ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتحال پہلے اندازے سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور ممکن ہے کہ ابھی مزید سرگرمیاں سامنے آنا باقی ہوں۔
یہ سرگرمی براہ راست ہیکنگ کے زمرے میں نہیں آتی اور بعض ماہرین کے نزدیک اس کی نوعیت اسپیم سے زیادہ قریب ہے، تاہم تشویش اس بات پر ہے کہ AI ماڈلز نے اپنی عائد پابندیوں کو چکمہ دے کر رابطے کے نئے طریقے تلاش کیے۔
گزشتہ ہفتے محققین نے انکشاف کیا تھا کہ اوپن اےآئی کے اےآئی ایجنٹس نے ایک جرمن زبان کی وکی ویب سائٹ کو عارضی پیغام رسانی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ایجنٹس پر الزام تھا کہ انہوں نے اسے ٹیسٹ میں نقل کے لیے استعمال ہونے والے پیغامات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔
نئی تحقیقات میں اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے شواہد مزید ویب سائٹس پر ملے ہیں۔ محققین نے سرگرمی کی نشاندہی کے لیے ایک جیسی ڈیٹا اسٹرنگز، ملتے جلتے صارف نام اور بعض انتہائی مخصوص سوالات سے متعلق پیغامات کا موازنہ کیا۔
کچھ کیسز میں سرگرمی کو ایسے آئی پی ایڈریس تک بھی ٹریس کیا گیا جو مائیکروسوفٹ ایزیور کے انفراسٹرکچر کی جانب اشارہ کرتے تھے، جسے اوپن اےآئی بعض اوقات استعمال کرتا ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق متاثرہ ویب سائٹس میں مشترکہ طور پر ایڈٹ ہونے والی وکیز، آن لائن ٹیکسٹ اسٹوریج سائٹس، دو جامعات کے لنک شارٹنرز اور دیگر نسبتاً غیر معروف پلیٹ فارم شامل تھے۔
ان میں میساچوسٹس کے ایک ہائی اسکول استاد کی 2008 میں بنائی گئیایڈوانسڈپلیسمنٹ کیمسٹری وکی، پولینڈ کے دو ٹیک ورکرز کی ذاتی ویب سائٹس اور گیمز سے متعلق وکیز بھی شامل ہیں۔
اوپن اے آئی نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے ایجنٹس نے کتنی ویب سائٹس استعمال کیں یا کئی ماہ تک یہ معاملہ عوام سے کیوں چھپایا گیا۔ کمپنی نے تاہم کہا کہ وہ اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیوں کا وسیع جائزہ لے رہی ہے اور اب تک اسے ہگگنگ فیس کے واقعے جیسی شدت یا پیمانے کی کوئی دوسری سرگرمی نہیں ملی۔
دریں اثنا، اوپن اے آئی کے علاوہ اینتھروپک بھی اپنے ماڈلز کے غیر متوقع رویوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ کمپنی نے بدھ کو ایک اور واقعے کا انکشاف کیا جس میں ابتدائی کلاڈ اوپس 4.6 ماڈل نے جنوری میں بیرونی سسٹمز کو ہیک کیا تھا، تاہم یہ واقعہ گزشتہ ماہ تک سامنے نہیں آسکا۔
اینتھروپک کے مطابق ابتدائی جائزے میں 141,006 ٹیسٹ سیشنز کا جائزہ لیا گیا تھا، لیکن کچھ سیشنز رہ گئے تھے۔
