اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا کی ثالثی میں کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان نے ایک اہم فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ، جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ میں ہونے والی تقریب میں معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کے بعد اس کا مکمل متن بھی جاری کر دیا گیا۔ دستاویز کے مطابق دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو امریکی ثالثی اور براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے اور مستقبل میں پرامن ہمسائیگی کے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔
معاہدے کے تحت لبنانی فوج مرحلہ وار پورے ملک میں اپنی عملداری بحال کرے گی، جبکہ تمام غیر ریاستی مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا کرے گی تاکہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی واپسی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہو سکے۔
اسرائیل نے معاہدے میں واضح کیا ہے کہ اس کی لبنان میں کسی بھی علاقے پر مستقل قبضے کی کوئی خواہش نہیں، جبکہ لبنان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاستی اداروں کے پاس ہوگا۔
معاہدے کے مطابق امریکا کی نگرانی میں ایک مشترکہ فوجی رابطہ گروپ قائم کیا جائے گا جو سکیورٹی امور، انخلا کے مراحل اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ امریکا اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار لبنان کی تعمیر نو، انفراسٹرکچر کی بحالی، انسانی امداد اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی معاونت فراہم کریں گے۔
معاہدے میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ تعمیر نو کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کسی بھی غیر ریاستی مسلح تنظیم یا اس سے وابستہ اداروں تک نہیں پہنچیں گے اور اس مقصد کے لیے شفاف نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔
دستاویز میں قیدیوں کی رہائی، لاپتا افراد کی باقیات کی واپسی اور بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ مہم سے گریز پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
سرکاری لبنانی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں 4 ہزار سے زائد افراد جاں بحق، 12 ہزار سے زیادہ زخمی جبکہ 10 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
